حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خدا کی خصوصی قدرت کا مظاہرہ
المستفاد: بکھرے موتی جلد چہارم (ص، ٣٠؛ تا:٣١ )
محمد اکرام پلاموی
نہ انہیں سردی لگتی تھی ، نہ انہیں گرمی لگتی تھی ، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رحمت اللہ تعالی کہتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سردیوں میں ایک لونگی اور ایک چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرتے تھے اور یہ دونوں کپڑے پتلے ہوتے تھے اور گرمیوں میں موٹے کپڑے اور ایسا جبہ پہن کر نکلا کرتے تھے جس میں روئی بھری ہوئی تھی ۔ لوگوں نے مجھ سے کہا آپ کے ابا جان رات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے باتیں کرتے ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا , لوگوں نے امیر المومنین کا ایک کام دیکھا ہے جس سے وہ حیران ہیں ۔،،
میرے والد نے کہا وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا " وہ سخت گرمی میں روئی والے جبہ میں اور موٹے کپڑوں میں باہر آتے ہیں اور انہیں گرمی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور سخت سردی میں پتلے کپڑوں میں باہر آتے ہیں نہ انہیں سردی کی کوئی پرواہ ہوتی ہے اور نہ وہ سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا آپ نے ان سے اس بارے میں کچھ سنا ہے ؟ لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ جب آپ رات کو ان سے باتیں کریں تو یہ بات بھی ان سے پوچھ لیں ۔،،
چنانچہ جب رات کو میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان سے کہا ,, اے امیر المومنین ! لوگ آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا وہ کیا ؟ میرے والد نے کہا " آپ سخت گرمی میں روئی والا جبہ اور موٹے کپڑے پہن کر باہر آتے ہیں اور سخت سردی میں ،، پتلے کپڑے پہن کر باہر آتے ہیں نہ آپ کو سردی کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ،، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا,, اے ابو لیلیٰ! کیا آپ خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میرے والد نے کہا اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کے ساتھ تھا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ,, حضور ﷺ نے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ لوگوں کو لے قلعہ پر حملہ آور ہوئے لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا ، وہ واپس آگئے ۔ حضور اکرم ﷺ نے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر حملہ آور ہوئے لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا ، وہ بھی واپس آگئے ۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا " اب میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جسے اللہ اور اس کے رسول سے بہت محبت ہے اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائے گا اور وہ بھگوڑا بھی نہیں ہے ۔،،
چنانچہ حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر مجھے بلایا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میری آنکھ دکھ رہی تھی مجھے نظر نہیں آرہا تھا ۔ حضور ﷺ نے میری آنکھوں پر لعاب لگایا اور یہ دعا کی اے اللہ ! گرمی اور سردی سے اس کی حفاظت فرما ! اس کے بعد مجھے نہ گرمی لگی اور نہ کبھی سردی ۔،، ۔۔۔۔۔ ابو نعیم رحمہ اللہ تعالی کی روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر لعاب لگایا اور پھر دونوں ہتھیلیاں میری آنکھوں پر مل دیں اور یہ دعا فرمائی اے اللہ ! اس سے گرمی اور سردی دور کر دے ! ۔۔۔۔ اس ذات کی قسم جس نے حضور ﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے اس کے بعد سے آج تک گرمی اور سردی نے مجھے کچھ تکلیف نہیں پہنچائی ۔
طبرانی رحمہ اللہ تعالی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ہماری حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سردیوں میں ملاقات ہوئی انہوں نے صرف دو کپڑے پہن رکھے تھے ۔ ہم نے ان سے کہا آپ ہمارے علاقہ سے دھوکہ نہ کھائیں ہمارا علاقہ آپ کے علاقہ جیسا نہیں ہے یہاں سردی بہت زیادہ پڑتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مجھے سردی بہت لگا کرتی تھی جب حضور ﷺ مجھے خیبر بھیجنے لگے تو میں نے عرض کیا کہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں ۔ آپ ﷺ نے میری آنکھوں پر لعاب لگایا اور اس کے بعد نہ مجھے کبھی گرمی لگی اور نہ کبھی سردی اور نہ کبھی میری آنکھیں دکھنے آئیں ( حیاۃ الصحابہ ، ج ،۳ ، ص: ٧٣٠ )


0 Comments