حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے تین چیزیں مانگیں

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے تین چیزیں مانگیں 



المستفاد: بکھرے موتی جلد چہارم ( ص، ٣٥؛ تا: ٣٦ )

محمد اکرام پلاموی 

(1) بیوی کی محبت (2) آنکھ کی بینائی (3) اور جنت ان کی آنکھ کے ساتھ خدا کی خصوصی قدرت کا مظاہرہ ۔ 

بیہقی اور ابن اسحاق رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ جنگ احد میں حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں تیر لگا جس سے آنکھ ۔ نکل کر رخسار پر آگئی ، نبی کریم ﷺ نے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ اگر چاہو کہ یہ آنکھ اچھی ہو جائے تو میں اس کو اس کی جگہ پر رکھ دوں اچھی ہو جائے گی ، اور اگر چاہتے ہو کہ جنت ملے تو صبر کرو ۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جنت تو بڑا اچھا انعام ہے لیکن مجھے کانا ہونا برا معلوم ہوتا ہے ۔ آپ میری آنکھ اچھی کر دیجیے اور جنت کے لیے بھی میرے واسطے دعا فرمائیے ۔ آپ ﷺ نے ان کی آنکھ کا ڈھیلا اٹھا کر اس کو اس کے حلقے میں رکھ دیا ، اس کی روشنی دوسری آنکھ سے بھی تیز ہو گئی اور ان کے لیے جنت کی بھی دعا فرما دی، ( رسول اللہ ﷺ کے تین معجزات ، ص : 101 )

ایک روایت میں ہے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اپنی آنکھ کی پتلی کو ہاتھ میں لیے ہوئے حضور پرنور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تو صبر کرے تو تیرے لیے جنت ہے اور اگر چاہے تو اسی جگہ رکھ کر تیرے لیے دعا کر دوں ۔ 

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری ایک بیوی ہے جس سے مجھ کو بہت محبت ہے مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ اگر بے آنکھ رہ گیا تو کہیں وہ میری بیوی مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے ۔ آپ نے دست مبارک سے آنکھ اس کی جگہ پر رکھ دی اور یہ دعا فرمائی اللھم اعطه جماله اے اللہ اس کو حسن وجمال عطا فرما ۔ ( الاصابہ ، ج ،3،ص : 225 )

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں احد کے دن آپ ﷺ کے چہرے کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنا چہرہ دشمنوں کے مقابل کر دیا تاکہ دشمنوں کے تیر میرے چہرے پر پڑیں اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور محفوظ رہے ۔ دشمنوں کا آخری تیر میری آنکھ پر ایسا لگا کہ آنکھ کا ڈھیلہ باہر نکل پڑا جس کو میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ اور لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ 

رسول اللہ ﷺ یہ دیکھ کر آب دیدہ ہو گئے اور میرے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! جس طرح حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے تیرے نبی کے چہرہ کی حفاظت فرمائی اسی طرح تو اس کے چہرہ کو محفوظ رکھ ، اور اس آنکھ کو دوسری آنکھ سے زیادہ خوبصورت اور تیز نظر بنا! اور آنکھ کو اسی رکھ دیا ۔ اسی وقت آنکھ بالکل صحیح اور سالم بلکہ پہلے سے بہتر اور تیز ہو گئی ۔ ( رواہ الطبرانی وابو نعیم والدار قطنی بنحوہ)

Post a Comment

0 Comments