عورتیں کس طرح اپنے شوہر کو خوش رکھ سکتی ہیں؟
المستفاد: بکھرے موتی جلد چہارم ( ص، ٢٧؛ تا: ٣٠ )
محمد اکرام پلاموی ، نعمانی
عورت کو شوہر کے لیے بننا سنورنا اسلام میں پسندیدہ فعل ہے ۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ خواتین دن بھر کے کام کام کو انجام دے کر اس قدر تھک جاتی ہیں کہ شام ہوتے ہوتے ذہنی اور جسمانی تھکن سے چور ہو جاتی ہیں ۔ صبح سویرے اٹھنا ، بچوں کے لیے ، شوہر کے لیے ناشتا بنانا ، بچوں کو کھلانا پلانا ، انہیں تیار کر کے اسکول بھیجنا ، پھر صفائی کرنا ، دوسرے کام نمٹانا ، دوپہر کے وقت سے پہلے پہلے ان کاموں کو نمٹا کر دوپہر کا کھانا بنانا تاکہ بچوں کو اسکول سے لوٹتے ہی کھانا تیار ملے ۔
غرضیکہ کاموں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے ۔ بچوں کی آمد کے بعد بھی کئی کام ہوتے ہیں جو خواتین کو انجام دینے ہوتے ہیں ۔ اگر کچھ وقت دوپہر سے سہ پہر کے بیچ مل گیا تو آرام کر لیتی ہیں ورنہ پھر شام کے کام ۔ شوہر کے گھر لوٹنے کا وقت ہو جاتا ہے اور کام ہے کہ پھر بھی تکمیل کو نہیں پہنچتا ۔
ایسے میں شوہر گھر تشریف لاتے ہیں اور گھر میں چاروں طرف بکھرے کپڑے ، کھلونے اور دیگر سامان کو دیکھ کر ان کا موڈ کچھ بگڑ جاتا ہے ۔ بچوں کا بے ہنگم شورنا گواری کا احساس پیدا کرتا ہے ۔ کچن سے نکلتی ہوئی اپنی بیگم کو ملگجے سے لباس ، الجھے الجھے بالوں اور تکھے تھکے سے چہرے کو دیکھ کر موڈ مزید بگڑ جاتا ہے ۔ وہ ایک کپ چائے کی فرمائش کرنا چاہتے ہیں مگر بیگم کی بیزار سی صورت انہیں ایسا کرنے سے روک دیتی ہے ۔ نتیجتا شوہر کا دل چاہتا ہے کہ چلو بھاگ چلو ، کہیں دور صاف ستھری جگہ پر ، جہاں بچوں کا شور نہ ہو ، کوئی بیزار سی شکل نہ ہو ، کوئی مسکرا کر اس کا استقبال کرنے والا ہو ، بہت خوشگوار ماحول میں جہاں چائے کا لطف دو بالا ہو اور جہاں سکون کے چند لمحے میسر آسکیں مگر یہ سب کچھ ممکن نہیں ہوتا اس لیے شوہر چڑ چڑا سا ہو جاتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنتی اور جفا کش ہوتی ہیں ، زیادہ ذمہ دار ہوتی ہیں ، گھر گرہستی کے کام میں ان کی دلچسپی نہ ہو تو گھر ، گھر نہیں رہتا ۔ خواتین صبح سے شام تک گھریلو ذمہ داریاں پوری تند ہی کے ساتھ انجام دیتی ہیں مگر خواتین سوچ کر بتائیں کہ کیا آپ کے جسم کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے ؟ کیا آپ کے شوہر کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے ؟ آپ شوہر کے لیے بناؤ سنگار کیوں نہیں کرتیں ؟
شوہر کے لیے بننا سنورنا اسلام میں پسندیدہ فعل ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ سے واپسی کے بعد ہم اپنے گھر جانے لگے تو حضور ﷺ نے فرمایا:
" ابھی رک جاؤ اور رات کو اپنے اپنے گھر جاؤ تاکہ جس عورت نے کنگھی چوٹی نہیں کی ہے وہ کنگھی چوٹی کر لے اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ نہا دھو کر صاف ستھری ہو جائے ( بخاری ، کتاب نکاح ، باب الولد ، مسلم کتاب الرضاع باب استحباب نکاح البکر )
حضور اکرم ﷺ کو عورتوں کا کتنا خیال تھا کہ لا علمی میں وہ الجھے بالوں اور گندے میلے لباس میں اپنے شوہروں کے سامنے نہ آجائیں اس لیے انہیں نہا دھو کر کنگھی چوٹی کرنے کی مہلت دینا چاہتے تھے تاکہ شوہر کے دل میں بیزارگی یا نفرت کا جذبہ نہ پیدا ہو ۔
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زیب و زینت کا سامان کیا کرتی تھیں ۔ اس کا ثبوت اس واقعہ سے بھی ملتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی کو دیکھا کہ اسباب زینت سے یا جن سے اس دور کی عورت شوہر کی موجودگی میں بالعموم آراستہ ہوتی تھی ، خالی تھیں ۔ آپ نے فورا دریافت کیا " کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہیں سفر پر گئے ہوئے ہیں ؟ ( مسند احمد ، جلد ٦ ،ص : ١٠٦ ) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی کو تمام لوازمات سے آراستہ نہیں دیکھا تو انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے ہیں ، گھر پر موجود نہیں ہیں ۔
خواتین کو شوہروں کی دل بستگی کے لیے ، اپنے آپ کا ، اپنی صحت کا ، اپنے رہن سہن کا ، اپنے لباس و زینت کا خیال رکھنا چاہیے ، دن بھر کے کام کا ٹائم ٹیبل اس طرح ترتیب دیں کہ سارا کام شوہر کے آنے سے پہلے نمٹ جائے ، اگر کچھ باقی بھی رہ جائے تو حرج نہیں ہے ، آپ اسے بعد میں بھی کر سکتی ہیں ۔
آپ نہا دھو کر تیار ہو جائیں اور جب صبح کے گئے تھکے ماندے شوہر گھر آئیں تو انہیں یہ ایک اچھا ، خوشگوار سا ماحول دیں ، ان کا مسکرا کر استقبال کریں ، آپ کی مسکراہٹ دیکھ کر ویسے ہی ان کی آدھی تھکان دور ہو جائے گی ۔ خوش کن باتیں کریں ، دن بھر کے کمر توڑ کام کارونا نہ روئیں ۔
آپ کی محنت و مشقت ان سے چھپی تو نہیں رہتی ، وہ آپ کی جانفشانی کا دل میں اعتراف کرتے ہیں ، دل ہی دل میں تعریف بھی کرتے ہیں ۔ ہاں کچھ مرد تعریف کے معاملے میں کنجوس ہوتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کی خدمت کے معترف نہیں ہیں ۔ اگر مرد حضرات بھی اپنی بیوی کی محنت اور لگن ، زندگی کے تئیں ان کی ایمانداری اور سنجیدگی کا کھلے دل سے اعتراف کریں تو بیوی کے لیے شوہر کے چند پیار بھرے الفاظ قوت بڑھانے کی ٹانک ثابت ہوں گے ۔


0 Comments