خواتین اپنے گھر کی زینت بن کر زندگی گزاریں
المستفاد : بکھرے موتی جلد چہارم ( ص: ٢٤؛ تا: ٢٧
محمد اکرام پلاموی ، نعمانی
مکر و محترم مولانا صاحب: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سوال : امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے ، دل میں یہ شوق ہو رہا ہے کہ میں بھی میرے شوہر کی طرح تجارت کروں یا کسی جگہ ملازمت کروں تاکہ گھریلو ضرورتیں پوری ہو سکیں اور شوہر پر بھی غالب رہوں ۔ شوہر کی کمائی پر زندگی گزارنا یہ میری سمجھ میں نہیں آتا جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں ۔
خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کو بھی کاروبار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ مرد کے شانہ بشانہ چل سکیں ۔ بیٹیاں بھی جوان ہیں رشتے نہیں آرہے ہیں ۔ امید ہے ایسا جواب تحریر فرمائیں گے جس سے میں اور میرا شوہر مطمئن ہو جائیں ۔ میرے ذہن پر مغربیت چھائی ہوئی ہے ۔ دعاؤں کی درخواست ۔ والسلام ۔۔۔۔ ایک دینی بہن ۔
جواب : عورت ماں بھی ہے ، بیٹی بھی اور بیوی بھی ۔ ماں کی حیثیت سے وہ ایک عظیم اور بے انتہا شفیق ہستی ہے ، بیٹی کے روپ میں اطاعت گزار اور فرماں بردار جب کہ بیوی کے روپ میں ایک وفادار رفیقۂ حیات ہے ۔ مغرب فخر یہ کہہ سکتا ہے کہ مغربی ثقافت و تہذیب نے بہترین خواتین سائنس داں ، پولس ، وکیل اور حساب داں پیدا کیں ۔ لیکن اس سے انکار نہیں کہ مغربی ثقافت و تہذیب نے شفیق مائیں ، اطاعت گزار بیٹیاں اور وفا دار بیویاں کم ہی پیدا کی ہیں ۔
یہ طرۂ امتیاز تو صرف اسلام کو ہی حاصل ہے ۔ اسلام مرد و عورت کو مساوی حقوق دیتا ہے لیکن جہاں تک فرائض کا تعلق ہے وہ حدود کار مقرر کرتا ہے ۔ چونکہ مرد کی جسمانی ساخت مضبوط ہوتی ہے اس لیے اسے باہر کے کاموں کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ محنت و مشقت ، دوڑ دھوپ ، بیوی بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری مرد پر فرض کی گئی ہے ۔ عورت کو نازک اندام ، نہایت شفیق ، صابرہ اور ایثار و قربانی کا مجسمہ بنا کر گھریلو کام کاج ، بچوں کی نگہداشت و تربیت ، شوہر کی خدمت اور اطاعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عورت گھر کی ملکہ ہے ۔ نیز آنحضرت ﷺ نے نیک پاکیزہ بیوی کو مرد کا بیش بہا سرمایہ قرار دیا اور ماں کے پیروں تلے جنت کی بشارت دی ۔
ہر دور اور دنیا کے ہر مذہب میں جب تک عورت گھر کی چار دیواری میں رہ کر اپنے فرائض بخوبی انجام دیتی رہی معاشرے میں سکون ہی سکون رہا ۔ مرد گھر کی ساری ذمہ داریوں کو عورت کے سپرد کر کے اطمینان کے ساتھ باہر کی دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے ہم کنار ہوتا رہا اور ترقی اس کے قدم چومتی رہی ۔ ماں کی شفیق گود میں پروان چڑھ کر بچہ اپنے وطن کا جانباز سپاہی ، قوم کا خادم اور اپنے دین و دھرم کا علم بردار اور مجاہد بنا رہا ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین بزرگان دین ، مجاہدین اسلام وغیرہ کی ماؤں نے گھر کی چار دیواری میں رہ کر ہی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام کیا ۔ مولانا محمد علی جوہر رحمہ اللہ تعالی کی امی جان کی نصیحت تا قیامت ہر دور میں گونجتی رہے گی : " بولیں اماں محمد علی کی ، جان بیٹا خلافت پر دے دو ،،
چودہ سو سال پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے سفاک حجاج بن یوسف کے خلاف تلوار اٹھائی اور اپنی بوڑھی نابینا ماں حضرت اسماء بنت ابوبکر سے رخصت لینے لگے تو سو ( ١٠٠ ) سالہ نابینا ماں نے بدن کو چھوا اور پچھتر ( 75 ) سالہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بدن پر ذرہ بکتر کو محسوس کیا تو فرمایا : " اللہ کی راہ میں جہاد پر جا رہے ہو تو تمہارے بدن پر ذرہ بکتر زیب نہیں دیتا اس کو اتار دو اور جاؤ اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤ ۔ یہ تھی کل کی مائیں ، کل کی عظیم فردوسی عورتیں !
آج کی عورت کیا گل کھلا رہی ہے ؟ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اپنے اعلی فرائض کو بھول چکی ہے ، مردوں کی برابری کے چکر میں اپنی بربادی کی طرف رواں دواں ہے جبکہ اس پر عائد کی گئی ذمہ داریاں ہی کافی تھیں ۔ لیکن نادان عورت نے باہر کی دنیا میں قدم رکھ کر اپنے بوجھ کو بڑھا لیا ہے ۔ مرد کے شانہ بشانہ چلنے کے چکر میں مردوں کی ہوس بھری نظروں کا نشانہ بن کر اپنے آپ کو ذلیل کر رہی ہے ۔ گھر میں پوری عزت و وقار اور سکون کے ساتھ رانی بن کر بیٹھنے کے بجائے سوسائٹی کی تتلی بن گئی ہے ۔ مرد بہت خوش ہیں کہ عورت نے مرد کی ذمہ داریوں کا آدھا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے ، حالانکہ عورت کے بنیادی فرائض میں وہ حصہ دار نہیں بنتے ۔
کماؤ عورت کی حالت دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے لیکن افسوس اسے ہوش نہیں ۔ اس کی کمائی سے معیار زندگی standard of living ضرور بڑھ گیا ہے ، گھر عیش و عشرت کے سامان سے بھر رہا ہے لیکن فیملی لائف اور ازدواجی زندگی منتشر ہو رہی ہے ۔ بچے نوکروں اور پالنہ گھروں ( بے بی سینٹرس ) کے حوالے ہو رہے ہیں اور ماؤں کی محبت ، لاڈ پیار اور لوریوں سے محروم ہو رہے ہیں ، محرومی اور پز مردگی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ماؤں کی غیر حاضری میں درسی کتابوں کی پڑھائی کم اور ٹی وی زیادہ دیکھتے ہیں ۔
ایک تھکی ہوئی کماؤ بیوی شوہر کے جائز حقوق بھی پورے نہیں کر پاتی ۔ اس لیے شوہر شاکی اور اپنی ازدواجی زندگی سے غیر مطمئن رہتا ہے ۔ اپنی پریشانی اور جھنجھلاہٹ کو سگریٹ اور شراب میں ڈبو دیتا ہے ۔ بیوی سے جنسی آسودگی نہ ملنے کے نتیجے میں دہنی عیاشی اور بدکاری میں مبتلا ہو جاتا ہے ، زندگی میں تلخیاں بڑھنے لگتی ہیں ، میاں بیوی ایک دوسرے پر الزام تراشنے لگتے ہیں ۔ چونکہ عورت کماؤ ہوتی ہے اس لیے وہ شوہر کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہوتی ۔ انا پرستی کے چکر میں یا تو طلاق کی نوبت آجاتی ہے یا مرد زنا کاری یا دوسری بیوی کے چکر میں پڑ جاتا ہے ۔ ان چکروں میں معصوم بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے ۔
کماؤ بیوی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بیچارہ شوہر کماؤ بیوی کے آگے پیچھے اسے منانے اور اس کے موڈ کو ٹھیک کرنے کے لیے گھومتا رہتا ہے ۔ اس کے برعکس آفس میں میڈم اپنے آفیسر کے آگے پیچھے یس سر! یس سر! کہتی ہوئی گھومتی رہتی ہے ۔ کالج کی طالبات میں آوارگی ، بے حیائی ، عریانیت عام ہو رہی ہے بوائے فرینڈس رکھنا باعث فخر سمجھا جاتا ہے ۔ کال سینٹرس میں تباہی ہی تباہی ہے ، حوا کی بیٹیوں کی عزت و عفت تار تار ہو رہی ہے ۔
آج کل شریف گھرانے کے لڑکوں کو رشتہ ملنے میں دشواری پیش آرہی ہے ۔ ان عیش پرست آوارہ مزاج پڑھی لکھی لڑکیوں کا چلن دیکھ کر اکثر لڑکے کم پڑھی لکھی ، کم عمر ، دیندار اور خوب سیرت لڑکیوں سے شادی کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ دن دہاڑے زنا بالجبر اور اغواء کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے نیم عریاں بے حیا لڑکیوں کو دیکھ کر مرد کہاں تک اپنی نظروں اور جنسی جذبات پر قابو پائیں گے ؟!
ان سب کے باوجود عورت مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے ، ان کی شاباشی حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو تباہ کر رہی ہے ، اپنے آپ پر ظلم کر رہی ہے ۔ ہماری نظر میں ظالم وہ ہے جو عزت کی چار دیواری کو چھوڑ کر ذلت کے بازار میں جا بیٹھی ہے ۔


0 Comments