حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی سوانح حیات
المستفاد : بکھرے موتی جلد ہفتم ( ص ، ٣٥ ؛ )
محمد اکرام پلاموی
( ١) ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے خوشخبری دی کہ ان کی کنیز " خیرہ ،، نے ایک لڑکے کو جنم دیا ہے ۔ یہ خبر سن کر ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا دل باغ باغ ہو گیا ، چہرہ مبارک پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ پہلی فرصت میں بچہ کو دیکھنے کا شوق دل میں پیدا ہوا ، لہذا زچہ اور بچہ دونوں کو اپنے گھر بلانے کے لیے پیغام بھیجا ۔ انہیں اپنی اس کنیز سے بے حد پیار تھا ۔ اس کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں ۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ وہ زچگی کے ایام یہاں گزارے ۔
( ٢ ) پیغام بھیجے ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آپ کی کنیز " خیرہ " اپنے ہاتھوں میں نو مولود بچہ کو اٹھائے پہنچ گئی ۔ جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی نگاہ بچے کے معصوم چہرے پر پڑی تو وفود شوق سے آگے بڑھیں اور اسے اپنی گود میں لے کر پیار کیا ۔ یہ بچہ کیا تھا قدرت کا انمول ہیرا ، اتنا خوبصورت گل رخ ، ماہ جبیں اور صحت مند کے کیا کہنے ! ہر دیکھنے والا قدرت کے اس شاہکار کو دیکھتا ہی رہ جاتا ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیز سے پوچھا : اے خیرہ! کیا بچے کا نام تجویز کر لیا ہے ؟ اس نے کہا ۔ امی جان ! ابھی نہیں ، یہ میں نے آپ پر چھوڑ رکھا ہے ، جو نام آپ کو پسند ہو رکھ دیجئے ۔
فرمایا : ہم اس کا نام اللہ تعالی کی رحمت و برکت سے " حسن" تجویز کرتے ہیں ۔ پھر ہاتھ اٹھائے اور نو مولود کے حق میں دعا کی ۔
( ٣ ) حسن کی پیدائش سے صرف ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا گھر ہی خوشیوں کا گہوارہ نہ بنا بلکہ مدینہ منورہ کا ایک اور گھرانہ اس خوشی میں برابر کا شریک رہا اور وہ تھا ، کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا گھرانہ ، وہ خوشی میں اس لیے شریک تھے کہ نو مولود کا باپ یسار ان کا غلام تھا اور ان کے دل میں اپنے غلام کی بڑی عزت تھی اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔
( ٤ ) حسن بن یسار نے جو بعد میں حسن بصری کے نام سے مشہور ہوئے ، رسول اقدس ﷺ کے گھر میں آپ کی زوجہ محترمہ ہند بنت ابی امیہ کی گود میں پرورش و تربیت پائی ، جو ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھیں ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ عرب خواتین میں سب سے بڑھ کر عقلمند ، سلیقہ شعار ، محتاط ، حساس ، پیکر حسن و جمال اور صاحب فضل و کمال تھیں ۔ علم و ہنر اور تقوی وخشیت میں ممتاز مقام پر فائز تھیں ۔ آپ سے " ٣٧٨ " احادیث مروی ہیں ، زمانہ جاہلیت میں آپ کا شمار ان خواتین میں ہوتا تھا جو لکھنا جانتی تھیں ۔
حضرت حسن بصری کا تعلق ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف ان کی کنیز کے بیٹے کی حیثیت سے ہی نہیں تھا بلکہ اس سے بھی کہیں گہرا اور قریبی تعلق پایا جاتا ہے ، وہ اس طرح کہ بسا اوقات حسن کی والدہ خیرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے کسی ضروری کام کو نپٹانے کے لیے گھر سے باہر جاتیں تو یہ بچپن میں بھوک و پیاس کی وجہ سے رونے لگتے ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ انہیں اپنی گود میں لے لیتیں ماں کی غیر حاضری میں بچے کو تسلی اور دلاسہ دینے کے لیے اپنی چھاتی اس کے منہ کو لگاتیں ، دودھ اتر آتا ، بچہ جی بھر کر پیتا اور خاموش ہو جاتا ۔ اس طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حسن بصری رحمہ اللہ کے ساتھ دو نسبتیں تھی ۔ ایک ام المومنین کے اعتبار سے ماں کی اور دوسری رضاعی ماں ہونے کی ۔
( ٥ ) امہات المومنین کے باہمی خوشگوار تعلقات اور گھروں کے آپس میں قرب و ربط کی وجہ سے اس خوش نصیب بچے کو تمام گھروں میں آنے جانے کا موقع ملتا رہتا اور اس طرح سے اہل خانہ کے پاکیزہ اخلاق و اطوار اپنانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں ازواج مطہرات کے گھروں میں میرے آنے جانے اور کھیل کود سے چہل پہل رہتی اور تمام گھر خوشیوں کا گہوارہ بنے رہتے فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں اچھلتا کودتا ہوا گھروں کی چھتوں پر چڑھ جاتا ، مجھے کوئی روک ٹوک نہ تھی ۔
( ٦ ) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا بچپن انوار نبوت کی چمکیلی اور معطر فضاؤں میں ہنستے کھیلتے گزرا اور یہ رشد و ہدایت کے ان میٹھے چشموں سے جی بھر کر سیراب ہوئے جو امہات المومنین کے گھروں میں جاری و ساری تھے ۔ بڑے ہوئے تو مسجد نبوی میں کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے سامنے زانوے تلمذ کے شرف سے نوازے گئے ۔ اور ان سے علم حاصل کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔
انہیں حضرت عثمان بن عفان ، حضرت علی ابی طالب ، حضرت ابو موسی اشعری ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام سے احادیث روایت کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ لیکن سب سے بڑھ کر امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پیار تھا ، دینی مسائل میں ان کے مضبوط دلائل ، عبادت میں گہری دلچسپی اور دنیوی زیب و زینت سے بے رغبتی نے بہت متاثر کیا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سحر انگیز بیان ، حکمت و دانش سے لبریز باتیں ، مسجع و مقفٰی عبارتیں اور دل ہلا دینے والی نصیحتیں ان کے دل پر اثر انداز ہوئیں ، تو ان کے ہو کر رہ گئے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تقوی و اخلاق کا رنگ ان پر چڑھا اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فصاحت و بلاغت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اسلوب اختیار کیا ۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ جب اپنی عمر کی چودہ بہاریں دیکھ چکے تو اپنے والدین کے ہمراہ بصرہ منتقل ہو گئے اور وہیں اپنے خاندان کے ساتھ مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ اس طرح حسن بصرہ کی طرف منتقل ہوئے اور لوگوں میں حسن بصری کے نام سے مشہور ہوئے ۔
( ٧ ) جن دنوں حضرت حسن بصری بصرہ میں آباد وے ، بلادِ اسلامیہ میں یہ شہر علوم و فنون کا سب سے بڑا مرکز تصور کیا جاتا تھا ، اس کی مرکزی مسجد صحابہ کرام اور تابعین سے بھری رہتی تھی ۔
مسجد کا ہال اور صحن مختلف علوم و فنون کے حلقہ ہائے درس سے آباد تھا ۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کے جید و ممتاز عالم دین ، مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور ان سے تفسیر ، حدیث اور تجوید کا علم حاصل کیا ، فقہ ، لغت اور ادب جیسے علوم دیگر صحابہ کرام سے حاصل کیے ۔ یہاں تک کہ یہ ایک راسخ عالم دین فقیہ کے مرتبہ کو پہنچے ۔ علم میں رسوخ کی وجہ سے عام لوگ دیوانہ وار ان کی طرف متوجہ ہوئے ، لوگ ان کے پاس بیٹھ کر خاموشی سے ایسے مواعظ سنتے جن سے پتھر دل بھی موم ہو جاتے ، اور گنہگار آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے ، آپ کی زبان سے نکلنے والی حکمت و دانش کی باتوں کو لوگ سرمایہ حیات سمجھتے ہوئے اپنے دلوں میں محفوظ کر لیتے اور آپ کی قابل رشک سیرت کو اپنانے کے لیے ہر دم کوشاں رہتے ۔
( ٨ ) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا نام پورے ملک میں مشہور ہو گیا ۔ لوگ اپنی مجلسوں میں ان کا ذکر خیر کرنے لگے ۔ حکمراں ان کی خیریت دریافت کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے ، ان کے شب و روز کے معمولات سے آگاہی کی دلی تمنا رکھتے ۔ خالد بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ میں عراق کے ایک قدیم شہر " حیرہ" میں بنو امیہ کے جرنیل اور فاتح قسطنطنیہ مسلمہ بن عبدالملک سے ملا ، اس نے مجھ سے دریافت کیا ۔ خالد ! مجھے حسن بصری رحمہ اللہ کے متعلق کچھ بتاؤ ۔ میرا خیال ہے انہیں جتنا تم جانتے ہو کوئی اور نہیں جانتا ۔
میں نے کہا: آپ کا اقبال بلند ہو ، ہر دم کامیابی آپ کے قدم چومے ، بلا شبہ میں ان کے متعلق آپ کو بہتر معلومات بہم پہنچا سکتا ہوں ، کیونکہ میں ان کا پڑوسی بھی ہوں اور ہم نشین بھی ، بلکہ اہل بصرہ میں سب سے زیادہ انہیں جانتا ہوں ، اس نے کہا : ان کے متعلق کچھ مجھے بھی بتائیں ۔ ان کے باطن ظاہر جیسا ہے ، ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ۔ جب وہ کسی کو نیکی کا حکم دیتے ہیں ، پہلے خود اس پر عمل کرتے ہیں ۔ جب کسی کو برائی سے روکتے ہیں تو خود بھی اس برائی کے قریب نہیں بھٹکتے ۔ میں نے دنیاوی مال و متاع سے انہیں بالکل مستغنی بے نیاز پایا ، جو علم و تقوی کا خزانہ ہے ، لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے دیوانہ وار ان کی طرف لپکتے ہیں ، اوئے لوگوں کے محبوب نظر ہیں ۔ یہ باتیں سن کر جرنیل مسلمہ بن عبدالملک پکار اٹھا ۔
" خالد ! اب بس کیجیے ! اتنا ہی کافی ہے ، بھلا وہ قوم کیسے گمراہ ہو سکتی ہے ، جس میں حسن بصری رحمہ اللہ جیسی عظیم المرتب شخصیت موجود ہو ۔

0 Comments