لا یعنی باتوں سے پرہیز کرنے کی فضیلت ، اہمیت اور ضرورت
المستفاد : بکھرے موتی جلد چہارم ( ص، ٣٥ )
محمد اکرام پلاموی
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکه مالا یعنیه ( مشکوٰۃ ص : ٤١٣ )
اگر کوئی اچھا مسلمان بننا چاہتا ہے تو وہ لایعنی اور فضول باتوں سے احتراز کرے اور لایعنی باتوں میں بکواس کرنا ، خواہ مخواہ چوراہوں پر بھیڑ لگانا ، ہوٹل بازی کرنا یہ تمام باتیں شامل ہیں ، مسلمان کو ان سے احتراز کرنا لازم ہے ، جو شخص لایعنی اور فضول باتوں میں پڑ جاتا ہے وہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی سے لاپروا ہو جاتا ہے ۔ اور لوگوں کی نگاہوں سے گر جاتا ہے ۔ اس کی معاشرہ میں کوئی عزت نہیں ہوتی ۔
توکل کی حقیقت
,, اسلام اور تربیت اولاد ،، کے نام سے ایک کتاب ہے ۔ اس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک ایسی قوم سے ملے جو کچھ کام کاج نہ کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ کیا ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو متوکلین ہیں ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو ، متوکل تو درحقیقت وہ شخص ہے جو اپنا غلہ زمین میں ڈال کر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص کام کاج سے ہاتھ کھینچ کر بیٹھ کر یہ دعا نہ کرے کہ اے اللہ ! مجھے رزق عطا فرما دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ آسمان سے سونا چاندی نہیں برسا کرتے ۔
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے غرباء و فقراء کو اس بات سے روکا کہ وہ کام کاج چھوڑ کر لوگوں کے صدقات و خیرات پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا : اے غرباء و فقراء کی جماعت ! اچھائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاؤ ، اور مسلمانوں پر بوجھ نہ بنو ۔ ( اسلام اور تربیت اولاد ، ۲/ ٣٤٣ )


0 Comments