موت کا آنا جتنا یقینی ہے آدمی اس سے اتنا ہی غافل ہے

موت کا آنا جتنا یقینی ہے آدمی اس سے اتنا ہی غافل ہے 



المستفاد: بکھرے موتی جلد چہارم ( ص، ٣٢ )

محمد اکرام پلاموی 

یاد رکھیے روزانہ ملک الموت اپنے شکار کو دیکھتا رہتا ہے : 

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک انصاری کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملک الموت ! میرے صحابی کے ساتھ آسانی کیجئے ۔ ملک الموت نے جواب دیا کہ اللہ کے نبی ! تسکین خاطر رکھیے اور دل خوش کیجئے ۔ واللہ میں خود با ایمان کے ساتھ نہایت نرمی کرنے والا ہوں ۔

سنیے یا رسول اللہ ! قسم ہے خدا تعالی کی ! تمام دنیا کے ہر کچے پکے گھر میں خواہ وہ خشکی میں ہو یا تری میں ہر دن میں میرے پانچ پھیرے ہوتے ہیں ۔ ہر چھوٹے بڑے کو میں اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں جتنا وہ خود اپنے آپ کو جانتا ہے ۔ یا رسول خدا ! یقین مانیے کہ میں تو ایک مچھر کی جان قبض کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا جب تک کہ مجھے خدا تعالی کا حکم نہ ہو جائے ۔ 

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ملک الموت کا دن میں پانچ وقت ایک ایک شخص کی ڈھونڈ بھال کرنا یہی ہے کہ آپ علیہ السلام پانچوں نمازوں کے وقت دیکھ لیا کرتے ہیں ، اگر وہ نمازوں کی حفاظت کرنے والا ہے تو فرشتے اس کے قریب رہتے ہیں اور شیطان اس سے دور رہتا ہے اور اس کے آخری وقت فرشتہ اسے ( لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کی تلقین کراتا ہے ۔ 

حضرت مجاہد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ہر دن ہر گھر پر ملک الموت دو دفعہ آتے ہیں ۔ حضرت کعب احبار رحمہ اللہ تعالی اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دروازے پر ٹھہر کر دن بھر میں سات دفعہ نظر مارتے ہیں کہ اس میں کوئی وہ تو نہیں جس کی روح نکالنے کا حکم ہو چکا ہو ۔ ( تفسیر ابن کثیر ، ج، ٤، ص: ٢٠٤ )

Post a Comment

0 Comments