دارالعلوم دیوبند کا احترام حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی علیہ الرحمہ کی نظر میں

دارالعلوم دیوبند کا احترام حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی علیہ الرحمہ کی نظر میں 



راقم الحروف : محمد شعیب قاسمی میواتی ، امام و خطیب مسجد املی والی بلیماران چاندنی چوک دہلی 

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب دارالعلوم دیوبند کا احترام کس حد تک کرتے ہوں گے ، مندرجہ ذیل واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ 

حضرت پیر صاحب کے خلیفہ مجاز ، استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند مولانا سلمان صاحب بجنوری دامت برکاتہم العالیہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم حضرت پیر صاحب کی خدمت میں پہلی بار حاضر ہوئے تو ، ہماری بیٹھنے کی جگہ پر وہ لحاف یا چادر وغیرہ بچھائی جس کو حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب اوڑھا کرتے تھے ۔ 

معمول یہ تھا کہ ، سالکین و محبین لائن میں لگ کر حضرت سے ملاقات کیا کرتے تھے ، یعنی پہلے نمبر لگانا پڑتا تھا ؛ لیکن جب ہم ( اساتذہ دارالعلوم ) ملاقات کی خواہش کا ظہور فرماتے ؛ تو حضرت پیر صاحب خود ہمیں کسی کے ذریعے مطلع فرماتے ، ہم کسی مسجد میں بیٹھے ہوتے تھے ؛ 

لیکن جیسے ہی حضرت پیر صاحب کا پیغام پہنچتا ؛ تو ہم پہنچ جاتے ، دو منٹ ہمیں باہر بیٹھا یا جاتا ، اس کے بعد جب بلایا جاتا تو پہلے حضرت اپنا اوڑھنے والا لحاف یا چادر ہمارے لیے بچھاتے تھے ، اس کے بعد ہمیں بلاتے تھے ۔ 

پہلے ہی دن یہ تجربہ ہوا کے جب معتکف میں ہمیں بلایا ، وہاں دو حصے تھے ، ایک آرام کی جگہ دوسرے حصے میں کھانے وغیرہ کی جگہ تھی ، تو باہر کے حصے میں روکا گیا ؛ تو پتہ یہ چلا کہ ، بستر کے برابر میں جو جگہ تھی ، جہاں ملنے والے بیٹھا کرتے تھے ؛ تو سب اس قالین پر بیٹھتے تھے جو قالین پہلے سے بچھا ہوا تھا ؛ لیکن ہم لوگوں کے آنے سے پہلے اپنا اوڑھنے والا لحاف بچھوایا کہ ، یہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ہیں ، ان کے لیے اس کو بچھا دو ، اس پر ہمیں بٹھایا گیا ، اور پھر ہم نے محسوس کیا کہ ، ہمارے پہنچنے سے پہلے وہی اہتمام ہوتا ہے جو پہلے ہی دن ہوا تھا ۔ 

اسی زمانہ کی بات ہے ، میں نے ( مولانا سلمان صاحب بجنوری ) کہا کہ ، حضرت ! دارالعلوم کے لیے دعا فرما دیں ! فرمانے لگے کہ ، تیس سال سے تہجد کے وقت دارالعلوم دیوبند کے لیے دعا کر رہا ہوں ، ابھی تک ناغہ نہیں ہوا ہے ۔


Post a Comment

0 Comments