عبرت کی باتیں

عبرت کی باتیں 



المستفاد: بکھرے موتی جلد چہارم ( ص، ٨٩ ؛ تا: ٩٢ )

محمد اکرام پلاموی 

( ١) حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حضرت موسی علیہ السلام کے صحیفے کیا تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ان میں سب عبرت کی باتیں تھیں ( مثلا ان میں یہ مضمون بھی تھا کہ ) 

(١) مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جسے موت کا یقین ہے اور وہ پھر خوش ہوتا ہے ۔ 

(٢) مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جسے جہنم کا یقین ہے اور وہ پھر ہنستا ہے ۔ 

(٣) مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جسے تقدیر کا یقین ہے اور وہ پھر اپنے آپ کو بلا ضرورت تھکاتا ہے ۔ 

(٤) مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جس نے دنیا کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ دنیا آنی جانی چیز ہے ایک جگہ رہتی نہیں اور پھر مطمئن ہو کر اس سے دل لگاتا ہے ۔ 

(٥) مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جسے کل قیامت کے حساب کتاب پر یقین ہے اور پھر عمل نہیں کرتا ۔ ( حیاۃ الصحابہ ، ج: ٣ ، ص : ٥٥٦ ) 

(٢) حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو خط میں یہ لکھا : 

(١) اما بعد تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسے ہر شر اور فتنے سے بچاتا ہے اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالی اس کے کاموں کی کفایت کرتا ہے ۔ 

(٢) اور جو اللہ کو قرض دیتا ہے یعنی دوسروں پر اپنا مال اللہ کے لیے خرچ کرتا ہے اللہ تعالی اسے بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے ۔ 

(٣) اور جو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اللہ تعالی اس کی نعمت بڑھاتا ہے ۔ 

(٤) اور تقوی ہر وقت تمہارا نصب العین اور تمہارے اعمال کا سہارا اور ستون اور تمہارے دل کی صفائی کرنے والا ہونا چاہیے ۔ 

(٥) جس کی کوئی نیت نہیں ہوگی اس کا کوئی عمل معتبر نہیں ہوگا ۔ 

(٦) جس نے ثواب لینے کی نیت سے عمل نہ کیا اسے کوئی اجر نہیں ملے گا ۔ 

(٧) جس میں نرمی نہیں ہوگی اسے اپنے مال سے بھی فائدہ نہیں ہوگا ۔ 

(٨) جب تک پہلا کپڑا پرانا نہ ہو جائے نیا نہیں پہننا چاہیے ۔ ( حیاۃ الصحابہ ، ٣؛ ٥٦٤ ) 

(٣) حضرت عقبہ بن ابو الصھبا رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ جب ابن ملجم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خنجر مارا تو حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ رو رہے تھے ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیوں رو رہے ہو ؟ عرض کیا میں کیوں نہ روؤں جب کہ آج آپ کا آخرت کا پہلا دن اور دنیا کا آخری دن ہے ۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا چار اور چار ( کل آٹھ ) چیزوں کو پلے باندھ لو ، ان آٹھ چیزوں کو تم اختیار کرو گے تو پھر تمہارا کوئی عمل تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ابا جان ! وہ چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا : 

(١) سب سے بڑی مالداری عقلمندی ہے یعنی مال سے بھی زیادہ کام آنے والی چیز عقل اور سمجھ ہے ۔ 

(٢) اور سب سے بڑی فقیری حماقت اور بے وقوفی ہے ۔ 

(٣) سب سے زیادہ وحشت کی چیز اور سب سے بڑی تنہائی عجب خود پسندی ہے ۔ 

(٤) سب سے زیادہ بڑائی اچھے اخلاق ہیں ۔

حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا ابا جان ! یہ چار چیزیں تو ہو گئیں باقی چار چیزیں بھی بتا دیں ۔ فرمایا: 

(٥) بے وقوف کی دوستی سے بچنا کیونکہ وہ فائدہ پہنچاتے پہنچاتے تمہارا نقصان کر دے گا ۔ 

(٦) جھوٹے کی دوستی سے بچنا کیونکہ جو تم سے دور ہے یعنی تمہارا دشمن ہے اسے تمہارے قریب کر دے گا اور جو تمہارے قریب ہے یعنی تمہارا دوست ہے اسے تم سے دور کر دے گا ( یا وہ دور والی چیز کو نزدیک اور نزدیک والی چیز کو دور بتائے گا اور تمہارا نقصان کر دے گا ) 

(٧) کنجوس کی دوستی سے بھی بچنا کیونکہ جب تمہیں اس کی سخت ضرورت ہوگی وہ اس وقت تم سے دور ہو جائے گا ۔ 

(٨) بدکار کی دوستی سے بچنا کیونکہ وہ تمہیں معمولی سی چیز کے بدلے میں بیچ دے گا ۔ ( حیاۃ الصحابہ ٣: ٥٦٦ ) 

(٤) حضرت سعد بن مسیب رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کے لیے اٹھارہ باتیں مقرر کیں جو سب کی سب حکمت و دانائی کی باتیں تھیں انہوں نے فرمایا : 

(١) جو تمہارے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے تم اسے اس جیسی اور کوئی سزا نہیں دے سکتے کہ تم اس کے بارے میں اللہ کی اطاعت کرو ۔ 

(٢) اور اپنے بھائی کی بات کو کسی اچھے رخ کی طرف لے جانے کی پوری کوشش کرو ہاں اگر وہ بات ایسی ہو کہ اسے اچھے رخ کی طرف لے جانے کی تم کوئی صورت نہ بنا سکو تو اور بات ہے ۔ 

(٣) اور مسلمان کی زبان سے جو بول بھی نکلا ہے اور تم اس کا کوئی بھی خیر کا مطلب نکال سکتے ہو تو اس سے برے مطلب کا گمان مت کرو ۔ 

(٤) جو آدمی خود ایسے کام کرتا ہے جس سے دوسروں کو بدگمانی کا موقع ملے تو وہ اپنے سے بدگمانی کرنے والے کو ہرگز ملامت نہ کرے ۔ 

(٥) جو اپنے راز کو چھپائے گا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا ۔ 

(٦) سچے بھائیوں کے ساتھ رہنے کو لازم پکڑو ان کے سایۂ خیر میں زندگی گزارو کیونکہ وسعت اور اچھے حالات میں وہ لوگ تمہارے لیے زینت کا ذریعہ اور مصیبت میں حفاظت کا سامان ہوں گے ۔ 

(٧) ہمیشہ سچ بولو چاہے سچ بولنے سے جان ہی چلی جائے ۔ 

(٨) بے فائدہ اور بیکار کاموں میں نہ لگو ۔ 

(٩) جو بات ابھی پیش نہیں آئی اس کے بارے میں مت پوچھو کیونکہ جو پیش آچکا ہے اس کے تقاضوں سے ہی کہاں فرصت مل سکتی ہے ۔ 

(١٠) اپنی حاجت اس کے پاس نہ لے جاؤ جو یہ نہیں چاہتا کہ تم اس میں کامیاب ہو جاؤ ۔ 

(١١) جھوٹی قسم کو ہلکا نہ سمجھو ورنہ اللہ تمہیں ہلاک کر دے گا ۔ 

(١٢) بدکاروں کے ساتھ نہ رہو ورنہ تم بھی ان سے بدکاری سیکھ لو گے ۔ 

(١٣) اپنے دشمن سے الگ رہو ۔ 

(١٤) اپنے دوست سے بھی چوکنے رہو لیکن اگر وہ امانت دار ہے تو پھر اس کی ضرورت نہیں اور امانت دار صرف وہی ہو سکتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو ۔ 

(١٥) قبرستان میں جا کر خشوع اختیار کرو ۔ 

(١٦) اور جب اللہ کی فرماں برداری کا کام کرو تو عاجزی اور انکساری اختیار کرو ۔ 

(١٧) اور جب اللہ کی فرمانی ہو جائے تو اللہ کی پناہ چاہو ۔ 

(١٨) اور اپنے تمام امور میں ان لوگوں سے مشورہ کیا کرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے : انما یخشی الله من عبادہ العلماء . ( سورۂ فاطر ٢٨ ) 

خدا سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو ( اس کی عظمت کا ) علم رکھتے ہیں ۔ ( حیاۃ الصحابہ ٣، ٥٦٠ ، ٥٦١ ) 


Post a Comment

0 Comments