مولانا ارشد مدنی کے خلاف بکواس کرنے والے اور گندی نالی کی گیند
تحریر : محمد زاہد
بھارتی آزادی کی جدو جہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی " جمعیت علمائے ہند " کے قومی صدر اور دنیا بھر میں محترم " دارالعلوم دیوبند " کی مرکزی انتظامی کمیٹی کے سربراہ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کا ایک بیان زیر بحث ہے ۔ جس میں مولانا ارشد مدنی صاحب کے مطابق ۔ :
" اگر مسلمان لندن اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کے میٔر بن سکتے ہیں تو بھارت میں مسلمان کسی یونیورسٹی کے وائس جانسلر کیوں نہیں بن سکتے ؟ یہاں مسلمان وی سی بھی نہیں بن سکتا ۔ اور اگر بنے گا تو اعظم خان جیسا ہوگا ۔ جیل جائے گا ۔ سسٹم مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتا اور حکومت ایسے قدم اٹھا رہی ہے کہ مسلمان پھر کبھی سر اٹھا کر نہ چل سکیں ۔
" در اصل مولانا ارشد مدنی صاحب بولتے ہیں تو پوری دنیا کا مسلم سماج سنتا ہے ، کیونکہ دارالعلوم دیوبند کو دنیا بھر کے مسلمان احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ دہلی کے مرکزی مرکز کے مولانا سعد بولتے ہیں تو دنیا سنتی ہے ۔۔۔ مگر دونوں ہمیشہ سے پارٹی سیاست اور بیان بازی سے دور رہے ہیں ۔۔ ہمارے علماء معاشرے کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر وہ اعلان کریں تو کروڑوں مسلمان کسی بھی جگہ اکٹھا ہو سکتے ہیں ۔
مگر انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔۔
دراصل مولانا ارشد مدنی نے" سسٹم " پر جو الزام لگایا ہے ، اس کا جواب دینے کے لیے بی جے پی میں محض مسلمان ہونے کی وجہ سے کنارے لگا دیے گئے سید شاہنواز حسین کو آگے لایا گیا ہے ، جو مولانا ارشد مدنی صاحب جیسی عظیم اور علی شہرت یافتہ شخصیت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ حد ہے بے شرمی کی ۔
اصل میں " گلی کرکٹ " میں ایک کمزور یا نیا کھلاڑی ہوتا ہے جو بیٹنگ یا بالنگ کے لیے ترستا رہتا ہے ، جب گیند نالی میں چلی جاتی ہے تو وہ دوڑ کر گندی نالی سے گیند نکالتا ہے تاکہ کپتان خوش ہو کر اسے بیٹنگ یا بالنگ دے دے ۔
بی جے پی میں مسلمان چہرے کے طور پر ایسے چار لوگ ہیں جو " گندی نالی سے نکالنے کے لیے رکھے گئے ہیں ۔۔۔ سید شاہنواز حسین ، مختار عباسی تقوی ، سید ظفر اسلام اور شہزاد پونا والا ۔
حیرت ہے کہ سید شاہنواز حسین صاحب کے اندر بھی کیا کمال کی برداشت اور بے غیرتی ہے جو بی جے پی کی اتنی بے عزتی کے باوجود بھی اس کے لیے " گندی نالی سے گیند " نکالتے پھرتے ہیں ۔
دراصل سنگھ کے اندر ہر مذہب اور ہر ذات سے دو چار لوگ پالے جاتے ہیں تاکہ جب اس کمیونٹی پر سنگھ کے بنیادی نظریے کے تحت کوئی حملہ ہو تو یہ لوگ ٹی وی پر یا بیان کے ذریعے اس کا دفاع کریں ۔۔۔ یہ حملہ ایک طرح کا " لٹمس ٹیسٹ " بھی ہوتا ہے ، رد عمل کی شدت ناپی جاتی ہے ، پھر آگے کی حکمت عملی بنائی جاتی ہے ۔
یہاں اہم بات یہ ہے کہ باقی کمیونٹیز کو تو پھر بھی ان کی تعداد کے مطابق ایم پی ، ایم ایل اے ، وزیر اور وزیرا اعلی بنایا جاتا ہے ۔ مگر مسلمانوں کی حالت بی جے پی میں بھی وہی ہے جس کا ذکر مولانا ارشد مدنی نے کیا ۔
اصل میں اپنے بیان میں انہیں وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے ان چاروں " نالی سے گیند " نکالنے والوں کا بھی نام لینا چاہیے تھا ، کیونکہ یہ چاروں بھی صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی بڑے عہدے پر نہیں ہیں ، شہزاد پونا والا تو ابھی " کینچول" ہی میں ہیں ، اس پر بات بیکار ہے ، مگر سید ظفر اسلام تو مشہور بینکر رہے ہیں ، پوری زندگی انویسٹمینٹ بینکنگ میں گزاری ، ڈوئچے بینک انڈیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر رہے ۔
ظفر اسلام جیوترادتیہ سندھیا کے خاص دوست ہیں اور کہا جاتا ہے کہ بی جے پی نے انہیں استعمال کر کے سندھیا کو کانگریس سے توڑا ۔ مگر اس سب کے باوجود بی جے پی نے ان کے لیے " گندی نالی سے گیند " نکالنے کا کام رکھا ہے ، اور جب کوئی مسلمان کا مسئلہ آۓ ، ٹی وی پر بٹھا دیا جاتا ہے ۔
سید شاہنواز حسین اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں سب سے کم عمر وزیر رہے ۔ ان کی کارکردگی شاندار رہی ۔ وہ چھ چھ وزارتوں کے وزیر رہے ، پھر بھی ان پر کبھی ایک روپے کے بدعنوانی کا الزام نہ لگا ۔
اور مختار عباسی نقوی تو بی جے پی کے تب کے بڑے لیڈر ہیں جب نریندر مودی پروگرام میں دری بچھاتے تھے ۔ وہ 70 کی دہائی میں بی جے پی کے تحریک سے سیاست میں آے ، آٹل ۔ اڈوانی دور میں بڑے رہنما رہے ۔ وزیر رہے ، ان پر بھی کبھی کرپشن کا الزام نہیں لگا ۔
بتائیے ، ان تینوں کے پاس تجربہ ہے ، قابلیت ہے ، پارٹی کے لیے کمٹمنٹ ہے ، دو تو داماد بھی ہیں ، پھر بھی ایک ایم پی بننے کے لائق کیوں نہیں ؟ صرف اس لیے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں ۔
افسوس کہ ان خود داری نہیں کہ اپنے لیے ہی کچھ کہہ سکیں ۔ ایسے لوگ مولانا ارشد مدنی سے معافی مانگنے کی بات کر رہے ہیں ۔ انہیں اتنی تمیز بھی نہیں کہ اپنی ہی قوم کے سب سے بڑے مذہبی رہنما سے کس لہجے سے بات کی جائے ۔
دراصل مولانا ارشد مدنی صاحب کی " وائس چانسلر" والی بات تو صرف ایک مثال ہے ، بڑی تصویر میں یہی حالت پورے بھارت میں ہے ، بی جے پی میں بھی ہے ۔۔۔بی جے پی مسلمانوں کو لوک سبھا یا اسمبلی میں ٹکٹ نہیں دیتی - یہ حقیقت ہے ۔ تو وائس چانسلر کیا بنائے گی ، خود سمجھ لیں ۔
اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مسلم وائس چانسلر کا حوالہ دے کر مولانا ارشد مدنی کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، تو انہیں جان لینا چاہیے کہ ان یونیورسٹیوں کے بائ لاز کے مطابق صرف مسلمان ہی ان اقلیتی یونیورسٹیوں کے وائس جانسلر بن سکتے ہیں ۔
حضرت مولانا ارشد مدنی نے دہلی یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، بنارس ہندو یونیورسٹی ، الہ آباد یونیورسٹی جیسی یونیورسٹیوں کی بات کی ہے ۔ دم ہے تو یہاں مسلم وائس چانسلر بنا کر دکھائیں ۔ ورنہ شاہنواز حسین کو ہی معافی مانگنی چاہیے ۔
اور اگر مولانا ارشد مدنی کے بارے میں نہیں جانتے تو جان لیں ۔ وہ " تحریک ریشمی رومال " چلانے والے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے پوتے کی مانند ہیں ، جنہیں انگریز اتنا خوفزدہ تھے کہ ہندوستان کی جیل میں رکھنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ انہیں مصر کی قاہرہ جیل اور پھر ساڑھے تین سال مالٹا کی جیل میں رکھا ۔
حضرت مولانا ارشد مدنی ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب رحمت اللہ علیہ کے فرزند ہیں ، جو شیخ الہند کے ساتھ مالٹا میں قید رہے ، جنہوں نے گاندھی جی کے ساتھ مل کر ملک کی آزادی کی جدو جہد کی ، خلافت تحریک میں ساتھ دیا ، جناح کے دو قومی نظریے کی مخالفت کی اور مسلمانوں کو متحدہ قومیت پر ابھارا ۔
1857 کی جنگ آزادی کے عظیم ہیرو مولانا فضل حق خیرآبادی کی وراثت کو آگے بڑھانے والے ہیں مولانا ارشد مدنی ، وہی جنہوں نے سیلولر جیل میں ظلم برداشت کرتے ہوئے جان دے دی مگر انگریز سے معافی نہ مانگی ۔
سید شاہ نواز حسین کی دینی تعلیم کیا ہے ، معلوم نہیں ، مگر مولانا ارشد مدنی نے چھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا ۔ پانچ سال فارسی پڑھی ، پھر عربی کی اعلی تعلیم حاصل کی ، اور دور حدیث مکمل کیا ۔
ان کی اسلامی دنیا میں عظیم عزت ہے اور اسلام میں علماء سے احترام سے بات کرنے کی تاکید ہے ۔ مگر سید شاہنواز حسین کو شاید اسلام کی تعلیمات سے زیادہ بی جے پی میں اپنی وفاداری دکھانی ہے ، اسی لیے دوڑ دوڑ کر " گندی نالی سے گیند " نکالتے پھرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بات ظرف کی ہے ۔۔


0 Comments