مفتی شمائل ندوی صاحب کے مناظرہ پر اشکال کرنے والوں کو جواب
تحریر : شان عالم ، سہارن پوری
کسی چیز کا سمجھ میں نہ آنا یہ اس کے باطل ہونے کی دلیل نہیں ، مفتی شمائل صاحب کی گفتگو ایک مضبوط علمی دفاع کے طور پر یاد رکھی جائے گی ۔
جاوید اختر کی گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کے ان کے پاس نہ خالص عقلی دلیل موجود تھی اور نہ ہی کوئی معتبر نقلی حوالہ سوالات ضرور تھے ، مگر سوال دلیل نہیں ہوتے ، اور اعتراض برہان کا قائم مقام نہیں بن سکتا ۔
عقلی سطح پر وہ بدیہیات عقل جیسے علت و معلول ، نظم کائنات اور فطری شعور الوہیت کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے ، اور نقلی اعتبار سے تو ویسے بھی انکار کے بعد استدلال کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔
حقیقت یہ ہے کہ الہادی موقف اکثر انکار سے شروع ہو کر سوال پر ختم ہو جاتا ہے ، جبکہ اسلامی موقف دلیل سے شروع ہو کر یقین پر منتج ہوتا ہے ۔
اسی لیے ایسی بحثوں میں شور تو بہت ہوتا ہے ، مگر برہان ناپید ، البتہ اصل سبق یہ ہے کہ کمزور اعتراضات کا جواب تو دیا جا سکتا ہے ، مگر کمزور عقیدے کا دفاع ممکن نہیں مفتی شمائل صاحب ندوی کی گفتگو اس اعتبار سے نمایاں رہی کہ انہوں نے محض جذبات یا خطابت پر اکتفا نہیں کیا ۔
بلکہ عقلی ، نقلی اور سائنسی تینوں محاذوں پر مربوط دفاع پیش کیا ان کی لفظی محض لفظی چمک نہیں تھی ، بلکہ دلیل کے تابع اور مقصد کے تحت تھی ، جو ایک سنجیدہ عالم دین ہی کا خاصہ ہے ، عقلی اعتبار سے انہوں نے سببیت ، نظم کائنات ، اور فطری شعور الوہیت جیسے بدیہی اصولوں کو بنیاد بنایا ، جن سے انکار دراصل عقل ہی کے انکار کے مترادف ہے ۔
نقلی اعتبار سے قرآن وسنت کے اصولی منہج کو واضح کیا کہ ایمان بالغیب کوئی اندھا عقیدہ نہیں ، بلکہ وحی صادق کی خبر پر یقین ہے ۔ اور سائنسی حوالوں کے ذریعے یہ بات اجاگر کی کہ جدید سائنس خود کائنات کے نظم ، fine - tuning اور آغاز ( beginning (کی طرف اشارہ کرتی ہے ، جو خالق کے وجود کے حق میں جاتی ہے ، نہ کہ اس کے خلاف اس کے برعکس ، مخالف موقف سوالات ، تمثیلات اور شخصی تاثرات سے آگے نہ بڑھ سکا ۔ یہ فرق صاف نظر آیا کہ ایک طرف برہان تھا اور دوسری طرف ابہام اور واضح ہوا، قرآن کا فرمان ۔ وقل جاء الحق و زھق الباطل ، ان الباطل کان زھوقا


0 Comments