☏ WhatsApp

Hamare Courses

Ghar Baithe Online Islami Taleem ke Mukhtalif Courses
📖

Quran Sharif (Nazrah)

Quran Sharif ko Sahi Makharij, Tajweed aur Qawaid ke Sath Parhne ki Online Taleem.

Admission
📚

Amma Para

Amma Para ke Sath Tajweed, Masnoon Duain, Adaab aur Bunyadi Islami Taleem.

Admission
📕

Noorani Qaida

Huroof ki Pehchan, Makharij, Qawaid aur Quran Sharif Parhne ki Mazboot Buniyad.

Admission
🕌

Hifz-ul-Quran

Quran-e-Kareem Hifz Karne ke Liye Baqaida Online Hifz Classes aur Taleemi Rahnumai.

Admission

Why Choose Shees Academy?

Aap ke Bachon aur Khawateen ke Liye Behtar Online Islami Taleem
🏠

Ghar Baithe Online Taleem

Ghar Baithe Apne Bachon aur Bachiyon ko Quran aur Bunyadi Islami Taleem Dilwayein.

📖

Tajweed aur Makharij par Khaas Tawajjoh

Quran Sharif ki Sahi Tilawat ke Liye Tajweed, Makharij aur Qawaid par Khaas Tawajjoh di Jati Hai.

👦👧

Bachon aur Bachiyon par Khaas Tawajjoh

Har Bachay aur Bachi ki Taleemi Zarooriyat aur Samajhne ki Salahiyat ko Madde Nazar Rakha Jata Hai.

💰

Munasib Fees aur Zyada Mehnat

Munasib Fees ke Sath Talaba ki Behtari ke Liye Zyada Mehnat aur Khaas Tawajjoh di Jati Hai.

🌸

Baligh Khawateen ke Liye Alag Classes

Baligh Khawateen ke Liye Unki Zarooriyat ke Mutabiq Alag Online Classes ka Intezaam Hai.

👩‍🏫

Baligh Khawateen ke Liye Female Teacher

Baligh Khawateen ki Taleem ke Liye Female Teacher ke Zariye Alag Online Classes ki Sahulat.

Mufti Imtiyaz Palamvi - Founder & Director of Shees Academy
Founder & Director
Mufti Imtiyaz Palamvi
Fazil: Jamia Mazahir Uloom Saharanpur
Imam & Khateeb: Masjid-e-Umar, Madarsa Chowk, Balsokra, Pandri, Chanho, Ranchi (Jharkhand), India
Shees Academy ka Maqsad Bachon, Bachiyon aur Khawateen ko Ghar Baithe Quran Sharif aur Bunyadi Islami Taleem se Jorna hai. Quran Sharif ki Sahi Tilawat, Tajweed, Makharij, Duain, Adaab aur Zaroori Islami Taleem par Khaas Tawajjoh ke Sath Online Taleem ka Intezaam kiya gaya hai.
Hamari Koshish: Har Ghar Tak Quran aur Bunyadi Islami Taleem
Fee Structure
Online Quran aur Bunyadi Islami Taleem ke liye munasib aur aasaan monthly fee structure
🇮🇳
India Fees
India ke liye Monthly Fee
View Fees →
🌍
International Fees
Worldwide Online Classes
View Fees →
👥 Ijtimai Classes
Group Classes — India
Hifz-ul-Quran ₹600 Per Month Admission Now
Quran Sharif Nazirah ₹500 Per Month Admission Now
Amma Para ₹400 Per Month Admission Now
Noorani Qaida ₹350 Per Month Admission Now
👤 Fardi Classes
Individual Classes — India
Hifz-ul-Quran ₹1800 Per Month Admission Now
Quran Sharif Nazirah ₹1500 Per Month Admission Now
Amma Para ₹1400 Per Month Admission Now
Noorani Qaida ₹1200 Per Month Admission Now
👥 Ijtimai Classes
Group Classes — International
Hifz-ul-Quran $18 Per Month Admission Now
Quran Sharif Nazirah $15 Per Month Admission Now
Amma Para $15 Per Month Admission Now
Noorani Qaida $15 Per Month Admission Now
👤 Fardi Classes
Individual Classes — International
Hifz-ul-Quran $35 Per Month Admission Now
Quran Sharif Nazirah $30 Per Month Admission Now
Amma Para $30 Per Month Admission Now
Noorani Qaida $30 Per Month Admission Now

Admission Form

Ghar Baithe Shees Academy Mein Dakhla Lein Aur Quran o Bunyadi Islami Taleem Hasil Karein.

Aapki Maloomat WhatsApp ke Zariye Admission Team ko Bheji Jayengi.

Please wait...

علم کلام پر سلف کے اقوال کی صحیح تفہیم

علم کلام پر سلف کے اقوال کی صحیح تفہیم 



تحریر : عاصم افتخار 

موجودہ دور میں علم کلام پر تنقید دو نمایاں زاویے ہیں ۔ ایک وہ زاویہ ہے جو قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے اور حنابلہ میں سے ایک گروہ کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے ، جس کی نمائندگی علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کرتے ہیں ۔ دوسرا زاویہ وہ ہے جو استعمار کے نتیجے میں متحد دین کی جانب سے سامنے آیا ہے ۔ بظاہر ، پہلی نظر میں اور ساتھ رکھ کر دیکھنے سے یہ دونوں زاویے ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں ، لیکن درحقیقت یہ اپنی اساس ، منہج استدلال اور مقصد تینوں اعتبار سے ایک دوسرے بالکل مختلف ہیں ۔

حنابلا کے اس گروہ کا زاویۂ نظر فقہ کی طرح عقائد میں بھی نص کی ظاہریت پسندی پر قائم ہے ۔ ان کا منہج اسی ظاہریت پسندی سے پیدا ہوتا ہے ، اور ان کا مقصد یہ ہے کہ فکری تعبیرات کو زیادہ سے زیادہ عہد صحابہ و تابعین کے قریب رکھا جائے اور اگر کوئی تعبیرات وغیرہ میں نئی اصطلاحات یا ظاہریت سے ہٹ کر کسی نئے منہج کو متعارف کرائے تو اسے بدعت شمار کیا جائے ۔ اسی منہج کے تحت علم کلام پر تنقید بھی کی جاتی ہے ۔ 

اس کے برخلاف ، متحد دین کی اساس جدید دور میں پیدا ہونے والے مغربی افکار پر قائم ہے ، ان کا منہج بھی مغرب سے مستعار ہے ، اور ان کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو جدید مغربی افکار و اعمال سے کس طرح قریب تر کیا جائے ۔ یہ حضرات علم کلام کو بدعت قرار دے کر اس پر تنقید نہیں کرتے ، بلکہ دراصل اپنے ایک خود ساختہ " جدید علم کلام " کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے اشاعرہ اور ما تریدیہ پر رد کرتے ہیں اور اسے فرسودہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ان سب اختلافات کے باوجود ، دونوں زاویوں میں ایک گونہ مماثلت دکھائی دیتی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے استدلال کی تائید میں سلف کے ان اقوال پیش کرتے ہیں جن میں علم کلام کی مذمت یا نفی وارد ہوئی ہے ۔ 

ڈاکٹر اکرام ندوی صاحب نے علم کلام پر جو تنقید پیش کی ہے ، وہ اپنی اساس کے اعتبار سے جدید علم کلام کے خیمے سے تعلق رکھتی ہے ، کیونکہ وہ اس باب میں علامہ شبلی کے مداح اور مغربی نظر آتے ہیں ۔ تا ہم اپنی گزشتہ تحریر میں انہوں نے حنابلہ کے اس گروہ کے منہج کے مطابق علم کلام کا رد پیش کیا ہے جو علم کلام کو بدعت خیال کرتا ہے ، اور اسی بنا پر انہوں نے سلف کے متعدد اقوال بھی نقل کیے ہیں ۔

علم کلام سے متعلق سلف کے اقوال کی صحیح تفہیم اور ان کا درست مقام متعین کرنے کے لیے یہ ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ : کیا سلف سے علم کلام کے بارے میں ہی منفی اقوال منقول ہیں ، یا دیگر موضوعات میں بھی اس نوعیت کے عمومی منفی اقوال ملتے ہیں ؟ 

اسی مقصد کے تحت ، میں اس تحریر میں علم کلام کے ساتھ ساتھ دو دیگر مباحث بھی پیش کروں گا تاکہ سلف کے اقوال کا صحیح محل متعین کیا جا سکے ۔ پہلا موضوع سلف میں سے بہت سے اہل علم کا اہل الرائے پر نقد ہے ، اور دوسرا موضوع تفسیر بالرائے سے متعلق وارد ہونے والی تنقید ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : 

من قال فی القرآن برأیه فأصاب فقد أخطأ ۔

کیا اس حدیث کو اس کے عموم پر محمول کیا جائے گا ، حالانکہ یہ حدیث اپنے ظاہر میں نہایت واضح ہے ؟ خصوصا اس لیے بھی کہ یہ سلف کا قول نہیں بلکہ خود حدیث نبوی ہے ۔

اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے : 

بابو مایذکر من ذم الرأی و تکلف القیاس : جس کے تحت انہوں نے دو روایت نقل کی ہیں ۔ 

اسی طرح تابعین کی ایک جماعت سے رائے کے بارے میں منفی اقوال منقول ہیں ، جنہیں اصول تفسیر کی متعدد کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ 

یہ تمام اقوال بظاہر مفسر ہیں اور عموم رکھتے ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے علم کلام سے متعلق سلف کے اقوال ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان اقوال کو بھی ان کے ظاہری عموم پر رکھا جاتا ہے ، یا ان کی تخصیص و تاویل کی جاتی ہے ؟ اور کیا یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں " راۓ" سے مراد رائے مذموم ہے ؟ اسی بنیاد پر رائے کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے : رائے محمود اور رائے مذموم ، اور ان تمام اقوال کو رائے مذموم سے متعلق سمجھا جاتا ہے ۔ 

اسی طرح احناف کے بارے میں " اہل الرائے " کہہ کر جو شدید تنقیدات وارد ہوئی ہیں ، کیا انہیں بھی ان کے ظاہری عموم پر محمود کیا جاتا ہے ؟ یا پھر ان کی تاویل پیش کی جاتی ہے ؟ جیسے امام شافعی رحمہ اللہ کا قول : من استحسن فقد سرع ، کیا امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کو قبول کرتے ہوئے حنفیہ کے منہج استحسان پر شریعت سازی کا حکم لگایا جاتا ہے ؟ 

جب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہت سے عمومی اقوال کو ان کے صحیح محل میں رکھ کر ان کی تخصیص اور تاویل کرنا ضروری ہے ، تو یہی اصول علم کلام پر وارد ہونے والے سلف کے اقوال پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ 

چنانچہ علم کلام پر وارد سلف کے اقوال کو بھی دو طریقوں سے محسوس کیا جاتا ہے : یا تو ان سے مراد علم کلام کا وہ پہلو ہوتا ہے جو بدعتی گروہوں نے اختیار کیا تھا ، جسے علم کلام مذموم کہا جاتا ہے ؛ یا پھر ان اقوال کو اس خاص سیاق میں سمجھا جاتا ہے جس میں وہ وارد ہوئے ہیں ۔ 

یہاں تک کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی علم کلام کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ مجموعی طور پر علم کلام کا رد پیش کرتے ہیں ، لیکن اکثر مقامات پر مذموم کی قید بھی لگاتے ہیں ۔ کتاب النبوات میں وہ صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ سلف نے جس علم کلام کی مذمت کی ہے ، وہ علم کلام مذموم تھا ۔ اگرچہ وہ اس کے تحت اشاعرہ کے علم کلام کو بھی شامل کرتے ہیں ۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ : کیا علم کلام پر وارد اقوال کو ان کے ظاہری عموم پر رکھا جائے ، یا ان کے صحیح محل کے تعین کے لیے ان کی تخصیص کی جائے ؟ 

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 

وھذاکثیرأ ما یقع فی کلام أھل الکلام المذموم ، یطیلون فی الحدود والأدلۃ 

ترجمہ ، یہ سب لوگ اس مذموم علم کلام میں داخل ہو گئے ہیں جسے سلف نے معیوب قرار دیا اور اس کی مذمت کی ۔ 

اسی طرح درء تعارض العقل والنقل میں بھی متعدد مقامات پر علم کلام پر تنقید کرتے ہوئے " مذموم" کی قید لگائی گئی ہے ۔ 

علم کلام سے متعلق ابن مفلح حنبلی کے قول کو پیش کر کے میں اس تحریر کو ختم کرتا ہوں ۔ 

وہ اپنی کتاب اداب الشرعیہ میں تحریر کرتے ہیں جس کا ترجمہ ہے ۔ 

میں نے قاضی ابو یعلی کے پوتے کے بیٹے کی ایک کتاب میں دیکھا کہ اس نے اس مسئلے میں مذہب کے اندر اختلاف اور امام احمد رحمہ اللہ کے اقوال کو ذکر کیا ہے ، اور کہی ہے : مذہب میں صحیح قول یہ ہے کہ علم کلام مشروع ہے ، بلکہ اس کا حکم دیا گیا ہے ، اہل بدعت سے مناظرہ اور محاجہ جائز ہے ، اور ان کے رد میں کتابیں تصنیف کرنا درست ہے ۔ اسی کی طرف ائمۂ تحقیق ، قاضی اور تمیمی سمیت ایک جماعت نے رجوع کیا ہے ۔ 

Post a Comment

0 Comments