وطن سے محبت قرآن وسنت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ
تحریر: محمد عظیم اللہ صدیقی
وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے دل میں پایا جاتا ہے ۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے ، اس لیے وہ انسانی فطرت کے جائز جذبات کی نفی نہیں کرتا بلکہ ان کی درست رہنمائی کرتا ہے ۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ " اسلام میں وطن سے محبت ثابت نہیں " اور اس کی بنیاد عموما اس بات پر رکھی جاتی ہے کہ « حب الوطن من الایمان » نبی کریم ﷺ سے سند ثابت نہیں ۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ یہ جملہ حدیث نہیں ، لیکن علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے اس کے مفہوم کو درست قرار دیا ہے ۔
لیکن افسوس ہے کہ ایک مفتی صاحب جو آج کل کافی مشہور ہو رہے ہیں ۔ ان کے ذہن میں راہ تجدد پسندی کا پودا اگ گیا ہے ۔ وہ صاف لفظوں میں ایک میبنہ ویڈیو میں حب الوطن کو فطری بتا کر یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ خاص نہیں ہے بلکہ فطری کو بھی آنجناب ایک حد میں رکھنے کی دعوت دے رہے ہیں ۔ حالانکہ متعدد حوالوں سے وطن سے الفت اور اس کا اظہار ثابت ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ صرف ایک مقولے کے غیر ثابت ہونے سے پورے تصور کی نفی کرنا علمی دیانت کے بھی خلاف ہے ، کیونکہ وطن سے محبت کا ثبوت ہمیں نبی ﷺ کے اقوال ، اعمال ، دعاؤں اور طرز زندگی سے واضح طور پر ملتا ہے ۔
سب سے پہلی اور واضح دلیل نبی کریم ﷺ کی مکہ مکرمہ سے محبت ہے ، جو آپ کا پیدائشی وطن تھا ۔ ہجرت کے موقع پر نبی ﷺ نے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے جو کلمات ارشاد فرمائے ، وطن سے محبت کے سلسلے میں نہایت فیصلہ کن ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لمکۃ:
« ماأطیبک من بلد ، وأحبک الی ، ولو لا ان قومی أخر جونی منک ماسکنت غیرک » ( سنن الترمذی ، کتاب المناقب ، حدیث 3926 )
ان الفاظ میں نبی ﷺ نے صرف مکہ کی محبت کا اظہار فرمایا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ اگر آپ کو زبردستی نہ نکالا جاتا تو آپ کبھی اپنا وطن نہ چھوڑتے ۔ یہ بات خود اس دعوے کی تردید ہے کہ وطن سے محبت کوئی غیر اسلامی یا ناپسندیدہ جذبہ ہے ، کیونکہ نبی ﷺ کسی غیر شرعی جذبے کا اظہار نہیں فرما سکتے ۔ بلکہ نبی کا عمل سنت اور ممدوح ہی ہوگا ۔
ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کو اپنا نیا وطن بنایا ، اور یہاں بھی آپ کی زبان اور عمل دونوں سے وطن کی محبت جھلکتی ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی :
« اللھم حبب ألینا المدینۃ کحبنا مکۃ أو أشد » ( صحیح البخاری ، کتاب الدعوات ، حدیث 6372 )
یہ دعا نہایت غور طلب ہے ، کیونکہ نبی ﷺ اللہ تعالی سے مدینہ کی محبت مانگ رہے ہیں ۔ اگر وطن سے محبت کوئی دینی طور پر ممنوع چیز ہوتی تو نبی ﷺ اس کی دعا کبھی نہ فرماتے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وطن سے محبت نہ صرف جائز بلکہ ایک پسندیدہ فطری جذبہ ہے ۔
نبی اکرم ﷺ کے عمل سے بھی یہی حقیقت واضح ہوتی ہے ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں :
« کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا قدم من سفر ، فنظر ألی جدرات المدینۃ أوضع ناقته ، وان کان علی دابۃ حرکھا ، من حبھا »
( صحیح البخاری ، کتاب فضائل المدینہ ، حدیث 1802 )
یعنی جب سفر سے واپسی پر مدینہ کی عمارتیں نظر آجاتیں تو نبی ﷺ خوشی اور شوق میں اپنی سواری تیز فرما دیتے ۔ یہ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ وطن سے عملی محبت کا واضح ثبوت ہے ۔
قرآن مجید بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ وطن انسان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
« ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوا او اخرجوا من دیارکم مافعلوہ الا قلیل منھم » ( النساء: 66 )
اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے ، اور اگر یہ لوگ وہ کریں جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتا اور ( دین میں ) زیادہ ثابت رکھنے والا ہوتا ہے ۔
اس آیت میں گھروں اور وطن سے نکلنے کو جان دینے کے برابر سخت آزمائش قرار دیا گیا ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وطن سے تعلق انسانی فطرت میں گہرا پیوست ہے ۔
البتہ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے وطن سے محبت اور اندھی قوم پرستی ( عصبیت ) میں واضح فرق کیا ہے ۔ نبی ﷺ نے عصبیت کی مذمت فرمائی ، یعنی حق و باطل سے بالاتر ہو کر صرف قوم یا وطن کی حمایت کرنا ، لیکن وطن سے محبت ، اس کی خیر خواہی ، اس میں عدل ، امن اور انسانیت کے فروغ کی کوشش ۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں ۔
آخر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگرچہ « حب الوطن من الایمان » حدیث کے طور پر ثابت نہیں ، لیکن وطن سے محبت بذات خود قرآن ، سنت اور سیرت نبویﷺ سے ثابت ایک فطری اور جائز جذبہ ہے ۔ اس کی نفی نہ صرف نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خلاف ہے بلکہ اسلامی مزاج سے بھی ہم آہنگ نہیں ۔


0 Comments