حضور ﷺ کو عالم الغیب ماننا حرام اور کفر ہے فتاویٰ رضویہ

حضور ﷺ عالم الغیب نہیں تھے!

حضور ﷺ کو عالم الغیب ماننا حرام اور کفر ہے!

علم غیب ذاتی - علم غیب عطائی - انباء غیب - اخبار غیب - اطلاع غیب 

    محمد امتیاز پلاموی مظاہری   

اہل سنت و جماعت احناف علماء حق علماء دیوبند اور بریلوی مذہب کے مابین علم غیب کے سلسلے میں روز اول سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے۔

علماء دیوبند کا موقف 

علماء حق علماء دیوبند کا موقف ہے کہ علم غیب یہ صفت خاصہ حق سبحانہ و تعالیٰ ہے، اس صفت میں کسی بھی مخلوق کو خواہ نبی ہو یا ولی شریک کرنا شرک ہے۔

بریلوی مذہب کی طرف سے علی الاعلان کہا جاتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جاتی ہے کہ علماء دیوبند حضور ﷺ کو عالم الغیب نہ مان کر شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کے مرتکب ہوے ہیں، حالانکہ علماء متقدمین و متاخرین اس بات پر متفق ہیں کہ " علم غیب " خاصہ خداوندی ہے، اس میں کوئی شریک نہیں، نیز قرآن و حدیث اور علم کلام و فقہ میں جہاں کہیں بھی علم غیب کا ذکر ہوا ہے وہاں پر اللہ تعالیٰ کے لیے اثبات جبکہ غیراللہ سے نفی کی گئی ہے ۔

مثلاً: 

(١) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ (22) سورة الحشر۔


(٢) قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (65)  سورة النمل. 

(٣) قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (50)  سورة انعام


محترم قارئین! پیش کردہ پہلی آیت میں اللہ رب العزت کے لئے علم غیب کا اثبات ہے، دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے علم غیب کا اثبات اور مطلق غیر اللہ سے ( نبی ہو یا ولی) علم غیب کی نفی ہے ؛ جبکہ تیسری آیت میں بالخصوص آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اعلان ہے کہ میں علم غیب نہیں جانتا ۔

عطائی علم غیب 

کوئی یہ کہ سکتا ہے قرآن و حدیث میں جہاں کہیں اللہ پاک کے لیے علم غیب کا اثبات اور غیراللہ سے علم غیب کی نفی ہے وہاں ذاتی علم غیب مراد ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو علم غیب ہے وہ ذاتی ہے اور حضرات انبیاء علیہم السلام کو جو علم غیب ملا وہ عطائی ہے؛ اس لیے قرآن و حدیث علم غیب عطائی کے مخالف نہیں ! 

تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ:

علم کلام یا علم فقہ میں یا کسی بھی شرعی اصطلاح میں عطائی علم غیب کی کوئی اصطلاح نہیں ہے، جو لوگ حضور ﷺ کے لئے عطائی علم غیب کے قائل ہیں انکی یہ خود ساختہ اصطلاح ہے۔ 

اگر علم غیب عطائی کی کوئی اصطلاح شریعت میں ہوتی تو جہاں کہیں بھی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سےعلم غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں پر کتب تفسیر و شروحات احادیث میں  عطائی علم غیب کی تفصیل ضرور ہوتی ؛ لیکن ایسا نہیں ہے۔
اسکے برخلاف جہاں کہیں بھی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام یا ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے غیبی باتوں کے جاننے کا بیان ہے وہاں پر علم غیب کے بجائے انباء غیب، اخبار غیب، یا اطلاع غیب جیسے اصطلاح اختیار کی گئی ہے ۔


حضور ﷺ کو عالم الغیب ماننا کفر ہے؟

حضور ﷺ کو حاضر ناظر جاننا غلط ہے 




عرس منانا ناجائز و حرام ہے 

حضور ﷺ کو عالم الغیب ماننا کفر ہے 






Post a Comment

0 Comments