عید میلاد النبی ﷺ اور بریلیوں کے دلائل کا علمی جائزہ
بریلوی مولویوں کے دلائل جو یہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کو ثابت کرنے کے لیے دیتے ہیں آئیں ان پر غور کرتے ہیں ، یہاں ہم صرف دلائل پر غور کریں گے اور عید میلاد النبی حکم دیکھیں گے دلائل کا رد نہیں کریں گے رد پہلے ہی بہت ہو چکے ہیں ، اور یہ دلائل پر غور و فکر بھی ہم ہی کر رہے ہیں ورنہ تو بریلوی مولوی جو یہ دلائل دیتے ہیں وہ بھی اس پر غور نہیں کرتے ، ہم دراصل قرآن وحدیث ماننے والے ہیں اس لیے اگر کوئی چیز قرآن وحدیث سے ثابت ہو جائے تو ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس پر عمل کریں اور اپنے اعمال نامہ میں نیکیوں کا اضافہ کریں ، بریلوی مولوی قرآن سے جشن عید میلاد النبی ﷺ کے جو دلائل دیتے ہیں پہلے وہ دیکھیں،
بفضل اللہ رحمتہ فبذالک فلیفرحو: ( سورہ یونس ، 58 )
( ترجمہ کنزالایمان) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں' اس آیت میں اللہ پاک نے حکم دیا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا ہے ، بریلوی اس کا معنی خوشی منانا کرتے ہیں ،
دوسری دلیل قرآن سے: واما بنعمۃ ربک فحدث: ( سورہ والضحی: 11 )
( ترجمہ کنزالایمان) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ؛ اس آیت میں اللہ پاک نے حکم دیا ہے کہ اللہ کی نعمت جو اس نے تم پر کی ہے اس کا خوب چرچا کرو ،
ان آیات سے بریلوی استدلال کرتے ہیں کہ محمد ﷺ سے بڑی نعمت ، آپ سے بڑا فضل اللہ کا ہے ، آپ سے بڑی رحمت اللہ کی ، ہم پر کوئی نہیں اس لیے رسول پاک ﷺ کی ولادت پر خوشی منانا اور اس کا چرچا کرنا چاہیے ،
دلائل کا جائزہ
ان آیات میں اللہ پاک کے احکامات موجود ہیں ، اور جب اللہ پاک کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو وہ چیز فرض یا واجب ہو جاتی ہے ، اس کا چھوڑنے والا اور تاریک گنہگار ہوتا ہے ۔ جبکہ بریلوی ان آیات سے استدلال کر کے عید میلاد النبی کے بارے میں کہتے ہیں کہ نہ یہ فرض ہے نہ واجب ، بلکہ مباح ہے ، مباح کا مطلب جو یہ کام کرے اسے ثواب ملے گا جو نہ کرے وہ گنہگار ہوگا نہ ہی اس پر نقد کیا جائے گا ، اب ایک چیز اللہ پاک کے حکم سے ثابت ہو رہی ہے جو فرض یا واجب بنتی ہے مثلا ، اللہ تعالی نے فرمایا : نماز قائم کرو یہ اللہ کا حکم ہے جس سے نماز فرض ہوگی ، اللہ پاک نے فرمایا : زکوۃ ادا کرو ، یہ اللہ پاک کا حکم ہے زکوۃ ادا کرنا فرض ہو گیا ،
اب اللہ کے ان احکامات کے باوجود جو نماز و زکوۃ ادا نہیں کرتا وہ گنہگار ہے اور عذاب الہی کا حقدار بنتا ہے ، کیونکہ وہ فرض کا تارک ہے ، اب ایسے اللہ پاک نے فرمایا : اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہو جاؤ جو نعمت اللہ نے تم پر اتاری ہے اس کا خوب چرچا کرو ، اس سے مراد بریلویوں کے نزدیک رسول پاک ﷺ کی ولادت کی خوشی ہے تو ولادت کے دن خوشی منانا فرض ہو گیا ، اب اس کا تارک گنہگار اور عذاب الہی کا حقدار بنے گا ، جبکہ بریلوی مولوی ساتھ ہی یہ کہہ دیتے ہیں عید میلاد النبی منانا مباح ہے کرنے والا اچھا کر رہا ہے اور نہ کرنے والا برا نہیں کر رہا ،
اب دو ہی باتیں ہیں یا یہ آیات عید میلاد النبی کے دلائل نہیں بریلوی مولویوں نے غلط استدلال کر کے دھکے سے حجرے میں بیٹھ کر دلائل بنائے ہیں ، یا پھر عید میلاد النبی منانا فرض ہے جو نہیں مناتا اللہ کے عذاب کا حقدار بنتا ہے ، لیکن بریلوی دونوں باتیں نہیں مانتے ، جبکہ اس کا جواب بھی نہیں دے پائیں گے ،
بریلوی مولوی کی حدیث رسول سے عید میلاد النبی کی دلیل
رسول پاک ﷺ ہر پیر کو روزہ رکھتے ، رسول پاک سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسی دن میری ولادت ہوئی اور اس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی " ( صحیح مسلم )
دلیل کا جائزہ
اس حدیث کی بنا پر بریلوی کہتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے خود بھی اپنا میلاد منایا ہے ، اس حدیث میں رسول پاک ﷺ کا ہمیشہ کا عمل ہے ، جیسا کہ الفاظ آپ کے سامنے ہیں کہ رسول پاک ہر پیر کے دن روزہ رکھتے " اور اس کا ترک کرنا رسول پاک سے ثابت نہیں ، لہذا یہ عمل رسول پاک ﷺ کا ہمیشہ کا عمل ہے کہ رسول پاک اپنی وفات تک ہر پیر کے دن روزہ رکھتے رہے اس لیے کہ آپ اس دن پیدا ہوئے ۔
اسی طرح یہ عمل فقہی اصطلاح میں سنت موکدہ بن جاتا ہے ، سنت موکدہ اس عمل کو کہتے ہیں جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ، مثلا ، داڑھی رکھنا ، کپڑا ٹخنوں سے اوپر رکھنا ، وغیرہ ایسے ہی رسول پاک نے ہر پیر کے دن روزہ رکھا جس سے یہ عمل سنت موکدہ بن گیا ۔ اور بریلوی اس عمل کو عید میلاد النبی منانا قرار دیتے ہیں جس سے عید ملاد النبی سنت موکدہ بن گئی ،
اب اس کے تارک کا بھی وہی حکم ہے جو داڑھی منڈنے کا ہے ، لیکن بریلوی کہتے ہیں عید میلاد النبی ﷺ سنت موکدہ نہیں بلکہ مباح ہے کوئی عید میلاد النبی منائے تو اچھا نہ منائے تو کوئی حرج نہیں ، جبکہ جو حدیث سے دلیل دیتے ہیں اس سے عید میلاد النبی سنت موکدہ قرار پاتی ہے ،
اب دو ہی باتیں ہیں ، یا تو یہ حدیث عید میلاد النبی کی دلیل نہیں بریلوی مولویوں نے دھکے سے حجرے میں بیٹھ کر دلیل بنائی ہے ، یا پھر عید میلاد النبی ﷺ سنت موکدہ ہے اور اس کے تارک کا وحی حکم ہے جو سنت موکدہ کے تارک کا ہے ، لیکن بریلوی یہ دونوں باتیں نہیں مانتے ۔
یہ تھے بریلویوں کے عید میلاد النبی پر قرآن وحدیث سے دلائل کا حقیقی و تحقیقی جائزہ ، دلائل عید میلاد النبی کا حکم کچھ اور بتاتے ہیں بریلوی مولوی کچھ اور ، یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دلائل عید میلاد النبی کے نہیں ، اور جشن عید میلاد النبی ﷺ ایک بدعت ہے۔


2 Comments
ممبررشپ میں شامل فرما لیں
ReplyDelete🔹 پہلا اعتراض:
ReplyDelete"جب اللہ حکم دیتا ہے تو وہ فرض یا واجب ہوتا ہے، پھر میلاد مباح کیوں؟"
✅ جواب:
یہ اصولی طور پر غلط بنیاد ہے کہ ہر "امر" (حکم) وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
اصول فقہ کا قاعدہ:
الأمر للوجوب ما لم تصرفه قرينة
یعنی امر وجوب پر دلالت کرتا ہے جب تک کوئی قرینہ اسے استحباب یا اباحت کی طرف نہ لے جائے۔
قرآن میں متعدد اوامر ایسے ہیں جو فرض نہیں:
فانتشروا فی الارض (جمعہ کے بعد زمین میں پھیل جاؤ) — فرض نہیں
کلوا واشربوا — فرض نہیں
وإذا حللتم فاصطادوا — شکار کرنا فرض نہیں
لہٰذا:
فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا
یہاں خوشی کا حکم وجوب پر ہے یا استحباب پر؟
اسے سیاق، سباق اور عملِ سلف سے سمجھا جائے گا۔
اہلِ سنت کہتے ہیں: خوشی مشروع ہے — اس کی خاص شکل فرض نہیں۔
اس لیے میلاد کا منانا واجب نہیں بلکہ مستحب و جائز ہے۔
لہٰذا ان کا اعتراض بنیاد ہی سے ساقط ہو گیا۔
🔹 دوسرا اعتراض:
"اگر آیت میلاد پر دلالت کرتی ہے تو میلاد فرض ہونا چاہیے"
✅ جواب:
آیت میں حکم "خوش ہونے" کا ہے، نہ کہ کسی مخصوص دن، جلوس یا اجتماع کا۔
اہلِ سنت یہ نہیں کہتے کہ:
12 ربیع الاول کا اجتماع فرض ہے
بلکہ کہتے ہیں:
حضور ﷺ کی ولادت پر خوش ہونا شرعاً مطلوب ہے
خوشی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں:
درود شریف
نعت
سیرت بیان
صدقہ
اجتماع
یہ سب اصل میں مشروع اعمال ہیں۔
لہٰذا آیت کا حکم "اصلِ خوشی" پر ہے، نہ کہ کسی خاص طریقے پر۔
🔹 تیسرا اعتراض:
حدیثِ پیر کے روزے سے میلاد سنتِ مؤکدہ بنتا ہے
✅ جواب:
یہ بھی فقہی غلط فہمی ہے۔
پیر کے روزے کو فقہاء نے:
سنتِ مؤکدہ نہیں
بلکہ مستحب قرار دیا ہے
سنتِ مؤکدہ کی تعریف: جسے نبی ﷺ نے ترک نہ کیا ہو اور اس کا خاص اہتمام فرمایا ہو، جیسے:
فجر کی سنت
وتر
پیر کا روزہ نفلی عبادت ہے۔
لہٰذا اگر اس حدیث سے میلاد کا جواز نکلتا ہے تو وہ:
استحباب کا درجہ ہے
نہ کہ سنتِ مؤکدہ کا
اس لیے اہلِ سنت کا موقف بالکل اصولی ہے۔
🔹 اصل مسئلہ: کیا نبی ﷺ نے اپنی ولادت پر شکر ادا کیا؟
حدیث سے ثابت ہے: آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن روزہ رکھ کر شکر ادا کیا۔
یہ اصول ثابت ہوا:
✔ ولادتِ نبوی پر شکر مشروع ہے
✔ شکر کی صورت عبادت ہو سکتی ہے
اب اگر امت:
درود پڑھے
سیرت بیان کرے
صدقہ کرے
تو یہ سب مشروع عبادات ہیں۔
🔹 بدعت کا مسئلہ
دیوبندی حضرات ہر نئے اجتماع کو بدعت کہتے ہیں، جبکہ ائمہ نے بدعت کی تقسیم کی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ:
البدعة بدعتان
امام نووی:
البدعة تنقسم إلى خمسة أقسام
ہر نئی چیز گمراہی نہیں۔
اگر کوئی نیا طریقہ:
قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو
کسی واجب کو ساقط نہ کرے
کسی حرام کو جائز نہ کرے
تو وہ بدعتِ حسنہ ہو سکتا ہے۔
میلاد میں:
ذکر ہے
درود ہے
سیرت ہے
صدقہ ہے
یہ سب عبادات پہلے سے مشروع ہیں۔
🔹 سب سے بڑا اصولی جواب
اگر میلاد بدعت ہے تو:
مدارس بھی بدعت
حدیث کی کتابیں اس ترتیب سے بدعت
تراویح کی جماعت باقاعدہ نظام سے بدعت
اذان میں لاؤڈ اسپیکر بدعت
کیونکہ یہ سب نبی ﷺ کے زمانے کی اس شکل میں نہیں تھے۔
اہلِ سنت کا اصول ہے:
اصل عبادت موجود ہو تو اس کی نئی صورت بدعتِ مذمومہ نہیں۔
🔹 خلاصۂ جواب
دیوبندی اعتراض تین غلط بنیادوں پر قائم ہے:
ہر امر کو فرض سمجھ لینا
سنتِ مؤکدہ کی غلط تعریف
بدعت کا غیر اصولی اطلاق
اہلِ سنت کا موقف:
✔ میلاد فرض نہیں
✔ میلاد سنتِ مؤکدہ بھی نہیں
✔ بلکہ مستحب و باعثِ ثواب عمل ہے
✔ بشرطیکہ خلافِ شرع امور شامل نہ ہوں
محمد اختر رضا قادری مصباحی